کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 13 of 95

کلمۃ الفصل — Page 13

كار الفصل جلد ۱۳ متم نوره ولو كره الكافرون ذلیل اور خوار کیئے گئے فاعتبروا یا اول ابعا آہ کیا یہ مسلمانوں کے لیے شرم کے مارے ڈوب مرنے کا مقام نہیں کہ مسیح موعود کی سب سے زیادہ مخالفت انہوںنے کی کیا انکو سلام نے بنی تعلیم ی تھی کہ وہ جسکی مرکا ایک ایک منٹ اسلام کی خدمت میں گذرتا ہے او اسلام کا دشمن قرار دیا جائے اور اسکو کافر کے نام پکارا جائے۔مسیح موعود سے پہلے تو ان لوگوں کے ایمان کا حال صرف خدا کو معلوم تھا کیونکہ وہ اس میں کی مانند تھے جو اپنے اندر کوئی سیج لیے ہوئے ہو اور بارش نے ابھی اس پیج کو کسی پودہ کی شکل میں ظاہر ہ کیا ہو لیکن مسیح موعود کی بعثت کے بعد انکے دلوں کا سارا گند باہر آگیا اور یہ صاف طور پر ظاہر ہوگیا کہ جیسے عیسی کے زمانہ کے لوگ با وجود تورات کے حامل ہونے کے در حقیقت موسی نے پیرونہ رہے تھے اور جیسے محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم کے زمانہ کے عیسائی صرف نام کے عیسائی تھے ورنہ عیسیٰ ان سے بیزار تھا اور وہ عیسی سے بیزار اسی طرح مسیح موعود کا وقت پانیوالے در عمان، سلام اس نذہ سے بہت دُور جاپڑے تھے جس مذہب کو فاران کی چوٹیوں پر سے اُترنے والا آج سے تیرہ سو سال پہلے دنیا میں لایا۔سچ ہے اگر مسلمان اسلام پر قائم ہوتے تو کیا ضرورت تھی کہ اللہ تعالیٰ مسیح موعود کو بھیجتا جس نے اگر بھائی سے بھائی کو جدا کر دیا اور اپنے بیٹے کو اور بظاہر اسلام میں ای نے تفرقہ کی بنیاد قائم کردی مگر نہیں اللہ تعالے جو دلوں کے بھیدوں سے واقف ہے خوب جانتا تھا کہ ایمان دنیا سے مفقود ہے اور اسلام صرف زبانوں تک محدود اسی کی طرف یہ حدیث اشارہ کرتی ہے کہ لو کان الایمان معلقاً بالثريا لناله جل من فارس - مخبر صادق نے پہلے سے ہی یہ خبر دے رکھی تھی کہ ایک وقت این گا جب ایمان دنیا سے اُٹھ جائیگا تب اللہ تعالی ایک فارسی النسل کو کھڑا کر یگا اوہ نئے سرے سے لوگوں کو اسلام پر قائم کرے پس یہ کس مٹن ہو سکتا ہے کہ بخبر صادق کی خبر غلط نکلے۔ہم ساری دنیا کو جھوٹا مانے کے لیے تیار ہیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ محمد صلعم ! کو ایک جھوٹی خبر دینے والا یقین کریں اس نے جو کہا سچ کہا ایمان واقعی ثریا پر چلا گیا تھا مسیح موعود اسے پھر دنیا میں لایا پس وہ جس نے مسیح موعود کا انکار کیا اس نے مسیح موعود کا انکار نہیں کیا بلکہ