کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 12 of 95

کلمۃ الفصل — Page 12

نمبر ۳ ریویوار ریویو ان ریجنز جا رہا تھا۔دجال نے پورے زور کے ساتھ خروج کیا تھا یا جوج ماجوج کی فوجیں ہر ایک اور نمی جنگہ سے انڈی چلی آتی تھیں، اسلام عیسائیت کے پاؤں پر جان کنی کی حالت میں پڑا تھا اور دہر دیست اپنے آپکو ایک خوبصورت شکل میں پیش کہ یہ ہی تھی مگر اس پر بھی مسلمانوں کے کانوں پر جوں تلک ہینگی اور وہ خواب غفلت میں سویا کیئے حتی کہ وقت آیا جب محمد صلعم کی روح اپنی امت کی حالت پار کو دیکھ کہ تڑپتی ہوئی آستانہ الہی پر گری در عرض کیا کہ اے بادشاہوں کے بادشاہ اگر غریبوں کے مدد کرنے والے ! میری کشتی ایک خطرناک طوفان میں گھر گئی ہے میری بھیڑوں پر بھیڑیئے ! میں ٹوٹ پڑے ہیں میری است شیطان کے پنجے میں گرفتار ہے تو خود میری مدد فرما اور میری بھیڑ ہیں۔کے لیے کسی چرواہے کو بھیج تب ی کا ایک آسمان پر سے ظلمت کا پردہ پھٹا اور خدا کا ایک نبی فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے زمین پرانتہا تا دنیا کو اس طوفان عظیم سے بچاوے اور امت محمدیہ کی گرتی ہوئی عمارت کو سنبھال لے ليکن يا حسرة على العباد يا حسنة على العباد يا حسرة على العياد ما ياتيهم من رسول الا كانوا به يسهر رونم وہ جو دنیا کا آخری نجات دینے والا بنکر آسمان پر سے دنیا کی مصیبت کے وقت زمین پر اترا وہ جو امت محمدیہ کی بھیڑوں پر حملہ کرنے والے بھیڑیوں کو ہلاک کرنے کے لیے آیا وہ جو سلام کی کشتی کو طوفان میں گھرے ہوئے دیکھ کر اُٹھاتا اسے کنارہ پر لگائے وہ جوخیرا نام کو شیطان کے پنچھ میں گرفتار پاکر شیطان پرحملہ آور ہو آدہ جو دجال کو زوروں پر دیکھکر اسکے طلسم کو پاش پاش کرنے کے لیے آگے بڑھا وہ جو یا جوج ماجوج کی فوجوں کے سامنے اکیلا سینہ سپر ہوا وہ جو مسلمانوں کے باہمی جھگڑوں کو دور کرنے کے لیے امن کا شہزادہ بنکر زمین پر آیا وہ جو دنیا پر ندھیرا چھایا ہوا پاکر آسمان پر سے نو کو لایا ہاں وہ مسلم کا اکلوتا بیٹا ج کے زمانہ پر رسولوں نے ناز کیا تھا جب وہ زمین پر اترا تو امت محمدیہ کی بھیڑ یں اسکے لیے بھیڑیئے بن گئیں اپر پتھر برسائے گئے اسکو مقدمات میں گھسیٹا گیا اسکے قتل کے منصوبے کیئے گئے اسپر کفر کے فتوے لگائے گئے اسکو اسلام کا دشمن قرار دیا اسکے پاس جانے سے لوگوں کو روکا گیا اس کے متبعین کو طرح طرح سے تکلیفیں دی گئیں لیکن آخر کار خدا کا فرمان پورا ہوکر رہا کہ کتب الله لا غلبن ان اور سلی۔وہ جو خدا کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھانا چاہتے تھے مس کے الہی والله