کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 11 of 95

کلمۃ الفصل — Page 11

۱۰۰ كان يفصل ن المرسلین حالانکہ نوح کی قوم نے تو صرف نوح کا ہی انکار کیا تھالیکن چونکہ خدا کے نزدیک ایک مامور کا انکار حقیقت میں سب ماموروں کا انکار ہے اس لیے نوح کے واسطے المرسلین کا لفظ بولا گیا۔فتدبر دوسرا اصول یہ کہ اگر غور سے دیکھا جاوے تو ایک مامور کا انکار خود ذات باری تعالٰی کا انکار ہے کیونکہ منکر خواہ زبان سے توحید کے قائل ہونے کا ہزار دعوی کرے لیکن دراصل دہ توحید کا یمن ہے اور اسکے دل میں شرک پوشیدہ ہے کیونکہ وہ اس شخص کی مخالفت پر کھڑا ہوا ہے جو دنیا میں توحید کے پھیلانے کے لیے بھیجا گیا اس اصول کو حضرت مسیح موعود تانے بڑی وضاحت کے ساتھ عبدالحکیم خاں مرتد کے جواب میں قرآن شریف کی آیات سے ثابت کیا ہے اور اسپر بڑی سیر کن بحث کی ہے (دیکھو حقیقۃ الوحی صفحه ۱۲۵ تا ۱۳۰) اب ان دونوں اصولوں کو اچھی طرح صاف کر دینے کے بعد میں اپنے اصل مضمون کی طرف آتا ہوں اور وہ یہ کہ کیا اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود مرسل یزمانی پر ایمان لانا ضروری نہیں ؟ سو واضح ہو کہ مسیح موعود اس زمانہ میں مبعوث کیا گیا جب دنیا میں چاروں طرف اندھیرا اچھا کیا تھا ہ بر و بحر میں ایک طوفان عظیم بر پا ہو رہا تھا مسلمان جن کو خیر الامت کا خطاب طاقتھا نہی عربی کی تعلیم سے کوسوں دور جاپڑے تھے وہ عبادت کی راہیں جن پر قدیم مارنے سے پہلوں نے خدا کے دربار تک رسائی حاصل کی تھی حقارت اور استخفات کی نظریہ دیکھی جاتی تھی شرک جسکے خلاف سارا قرآن بھرا پڑا ہے مسلمانوں کے حرکات اور سکنات سے کھلے کھلے طور پر ظاہر ہو رہا تھا رو ہے سے محبت کی جاتی تھی اور اسپر وہ بھر دو سا کیا جاتا تھا جو خود ذات باری تعالیٰ کے شایان شان ہے۔قبروں پر جاکر سجدے کیئے جاتے تھے۔شراب خوری زناکاری اور قمار بازی کا میدان گرم تھا۔مسلمانوں کی تمام سلطنتیں تباہ ہوچکی تھیں اور دو تین جوری ہی باقی تھیں انکا یہ حال ہو رہا تھا کہ اسلام کے لیئے جائے فخر ہونا تو بجائے خود رہا اسکے لیے جائے عار ہو رہی تھیں ادھر اسلام کا وجود خود بیرولی حملوں کا اسقدر شکار ہو رہا تھا کہ خیال کیا جاتا تھا۔کہ بس یہ آج بھی نہیں اور کل بھی نہیں نہیوں کے سرتاج محمد مصطفے صلی اللہ علیہ آلہ وسلم پر گندی گندے اعتراض کیئے جاتے تھے آپ کے ازواج مطہرات کو مختلف قسم کے الزامات کا نشانہ بنایا