کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 87 of 95

کلمۃ الفصل — Page 87

164 كل فصل جل الفاظ دو قسم کے معنی اپنے اندر لکھتے ہیں ایک لغوی معنی ایک اصطلاحی۔لغوی معنوں کا فیصلہ تو لخت کرتی ہے مگر اصطلاحی معنوں کے لیے پہلے یہ دیکھنا ہو گا کہ کس علم کی اصطلاح مقصود ہے اگر کسی لفظ کے معنی علم طباعت میں دیکھنے ہونگے تو کسی طبیب سے پوچھا جائیگا اگر قانون کی اصطلاح دریافت کرلی ہوگی تو فیصلہ کے لیے کسی وکیل کو نا جائیگا اور اگر علم ریاضی کی کوئی اصلاح ہو تو اسکے معنی ریاضی دان سے دریافت کیئے جائیں گے۔غرض کسی لونا کے اسطلاحی معنی کرنیکا پر ایک شخص مجاز نہیں ہے بلکہ وہی ہے جو اس علم کا استاد ہے۔اب اس بات کو سمجھ لینے کے بعد کفر کے لفظ کو لو، اس لفظ کے بھی دو ہی معنی ہونگے ایک لغوی معنی اور ایک اصطلاحی معنی لغوی معوں کا تو لغت فیصلہ کر یگی لیکن اصطلاحی معنوں کے لیے قرآن کریم اور حدیث کو دیکھنا ہوگا۔اب جب ہم لغت کو دیکھتے ہیں تو کفر کے معنی صرف کار کے ہیں اور مورنی صاحب موصوف نے بھی ان معنوں کو تسلیم کیا ہے جیسا کہ آپ لکھتے ہیں کہ " کفر انکار کا نام ہے؟ پس لغوی معنوں کے لحاظ سے جائز ہوگاکہ ہر ایک انکار کو کفرکے نام سے پکاریں اور ہر ایک چیز کے مکر و کا نکلیں۔دا کا انکا بھی کافر ہوگا اور شیطان کی انوار روایات کا ان کی کیفیت ان تینوں قسم کے فقروں میں کوئی تمیز نہیں کریگی کیونکہ لغت عرب میں کفر کے معنی صرف انکار کر دینے کے ہیں اور ہیں۔ور لیکن اصطلاح اسلام میں کفر کے معنی اتنے وسیع میں رہتے بلکہ ایک دائرہ کے اندر محدود ہو جاتے ہیں جیسا کہ عام اصطلاحات کا قاعدہ ہے۔لفظ کفر کے اصطلاحی معنی جو قران نے کیئے ہیں وہ یہ ہیں۔چھٹے پارہ کے شروع میں آتا ہے ان الذین یکفرون بالله ورسله | ويريدون ان يفرقوا بين الله ورسله ويقولون نؤمن ببعض و نكفر ببعض ويريدون ان يتخد وا بين ذلك سبيلا أو ليك هم الكافرون حقاد اعتدنا للكافرين عذا با مھینا۔یعنی وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں یا چاہتے ہیں کہ اللہ و ر اسکو رسول نہیں تفریق کریں یعنی اللہ کو مان ہیں۔اور رسولوں کو نہ مانیں یا کہتے ہیں کہ ہم بعض رسولوں کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور چاہتے ہیں کہ کوئی بین بین کی راہ نکالیں وہی لوگ حقیقی کافی ہیں اور اللہ نے کافروں کے لیئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کیا ہے + اس اہستہ کریمیہ میں اللہ جلشانہ لے کفر کے اصطلاحی