کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 67 of 95

کلمۃ الفصل — Page 67

104 کا مفصل جلد ۱۴ خدا کو منوانے آئے تھے تو پھر آپ کو ماننے کی کیا ضرورت ہے اور اگر خدا کو ماننے کے لیے نبی کریم کان مناضروری ہے تو ہم کہتے ہیں اس زمانہمیں نبی کریم کو منانے کے لیے مسیح موعود پر ایمان لانا ضروری ہے اور اگر ہمارے مخالف یہ کی کہ کیا نبی کریم کو بغیر بار مسیح موعود نہیں ان جان آخر اتنے لوگ آپ کو پہلے مانتے ہی تھے تو ہم کہیں گے کہ کیا خدا کو بغیر اتباع نبی کریم نہیں مانا جا سکتا آخر اتنے لوگ پہلے اسکو مانتے ہی تھے اور اگر یہ کہ کہ بغیر مانے نبی کریم کے خدا پر ایمان کامل نہیں ہو سکتا تو ہم کہتے ہیں کہ اسی طرح بغیر سیح موعود کو ماننے کے اس زمانہ میں نبی کریم پہ ایان کامل نہیں ہو سکتا بغرض ایسی محبتیں نکالنا صرف ان لوگوں کا کام ہے جو قرآن اور حدیث کے محاورات سے بالکل بے خبر ہیں اور نہیں جانتے کہ ایمان باللہ اور ایمان بالرسل کے کیا معنی ہیں۔اور پھر ہمارے مخالف اس بات پر بھی تو غور کریں کہ گرمسیح موعود پر ایمان انا ضروری نہیں تو کیوں نبی کریم نے اس پر ایمان لے آنے کی اپنی امت کو وصیت فرمائی اور اسکے زمانے والوں کو یہودی قرار دیا۔چوتھا اعتراض یہ پیش کیا جاتا ہے کہ صرف شرعی نبی کا انکار کفر ہوتا ہے غیر شرعی نبی کا انکار کفر نہیں ہوتا اس کا جواب یہ ہے کہ اس بات کا ثبوت پیش کیا جائے کہ غیر شرعی نبی کا انکار کفر نہیں ہونا قرآن کریم میں تو یہ آتا ہے ان الذین یکفرون بالله ورسله ويريدون ان يفرقوا بين الله ورسله ويقولون نؤمن بعض ونكفر ببعض ويريدون ان يتخذوا بين ذلك سبيلا أوليك هم الكافرون حقا واعتدنا للکافرین عذاباً مھینا۔اس آیت کریہ میں تو اللہ تعالیٰ نے رسل کا لفظ رکھا ہے جس میں ہر ایک قسم کے رسول شامل ہیں کوئی خصوصیت نہیں چاہے کوئی رسول شرعی ہو یا غیر شرعی ہندوستان میں آدے یا کسی اور ملک میں کسی ایک کا انکار کفر ہو جاتا ہے اور اگر یہ کہو کہ پھر حضرت مسیح موعود نے تریاق القلوب میں کیوں لکھا ہے کہ صرف شرعی نبی کا منکر کافر ہوتا ہے کسی اور کا نہیں۔تو اس کا یہ جوا ہے کہ ہم تو دونوں کو سچا جانتے ہیں۔قرآن تو خود ذات باری تعال کا کلام ہے اور مسیح موعود کا قول بھی اس شخص کا قول ہے جسکو نبی کریم نے حکم کے نام سے