کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 59 of 95

کلمۃ الفصل — Page 59

۱۴۸ كلم يفصل جلد ۱۴ یہ لکھ دینے کو تیار ہیں کہ ہم مرزا صاحب کو سلمان مانتے ہیں۔فرمایا پھر وہ مرزا نا سکے دعوی اور الہام کے متعلق کیا کہیں گے۔مرغی وحی و الہام کے معاملہ میں دو گروہ ہی ہو سکتے ہیں اللہ تعالٰی فرماتا ہے ومن اظلم ممن افترى على الله كذبا او كذب بالحق لأجاءه اليس في جهنم مثوى للكافرین اس سے بڑھکر ظالم کون ہے جو خدا پر افترا کرے اسے خدا کی طرف سے الہام نہ ہوا ہوا اور کہے کہ مجھے ہوا ہے۔ایسا ہی اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اس حق کی تکذیب کرے۔یا تو مرزا صاحب اپنے دعوئی میں بچے تھے انکو مانا چاہیئے یا جھوٹے تھے انکا انکار کرنا چاہئیے اگر مرزا صاحب مسلمان تھے تو انہوں نے سچ بولا اور وہ فی الواقع مامور تھے اور اگر انکا دعوی جھوٹا ہے تو پھر مسلمانی کیسی ؟ ( دیکھو بدر نمبر ۲۴ جلدا مورخه ۱۳ اپریل ۱۹۱۷م) پھر بدر غیر ۲۷ جلد ۱۰ مورخہ ہم۔مئی مسئلہ میں آپ نے ایک اعلان چھوا یا کہ دو میں اللہ کی قسم کھاکر اعلان کرتا ہوں کہ میں مرزا صاحب کے تمام دعاوی کو دل سے مانتا اور یقین کرتا ہوں اور معتقدات کو نجات کا مدار مانا میرا ایمان ہے یا پھر بدر نمبر ۳۹ جلد ۱۰ مورخہ ۲۷ - جولائی سلام میں آپ کی طرف سے کسی کے خط کا جواب چھپا ہے جس میں آپ تحریر فرماتے ہیں کہ حدیث شریف میں آیا ہے من قال لاخيه المسلم يا كافر فقد باء به احد هما- ہم یقینا اللہ تعالیٰ کو وحدہ لا شریک مانتے ہیں۔طائکہ انبیاء ورسل کتب اللہ پر ایمان ہے نمازیں پڑھتے ہیں زکواتیں دیتے حج کرتے روزہ رکھتے ہیں اور یہ ہمارا ایمان ہے۔پھر جو نہیں کا فرکہتا ہے اور کافر سے بد تر ہم سے معالمہ کرتا ہے وہ اس حدیث کے ماتحت اپنے آپ کو کیا فتویٰ دیتا ہے۔ہم فتویٰ نہیں دیتے۔قرآن کریم نے دو شخصوں کو بڑا ظالم ٹھرایا ہے ایک وہ جواللہ تعالی پر افترا با دست دو سرزده جو را ستہانہ اور اس کی حق تعلیم کا انکار کرے۔قرآن مجید میں ہے ومن اظلم ممن افترنی علی الله کن با او كذوب بالحق لما جاءه اب ظالم تر یا مرزا ہے یا یہ مکفرین۔مرزا کو تو ہم مفتری نہیں مان سکتے اب انکو کیا کہیں۔پیغمرون کسی قدر تفصل لکھنے کے قابل ہے اور بیماری اجازت نہیں دیتی۔اگر مفید نہ ہوا تو انشاء الله استان مکرر عرض کرونگا (نور الدین ہے۔جولائی شاع)