کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 44 of 95

کلمۃ الفصل — Page 44

نمبر ۳ ۱۳۳ منکروں کو خدا مسلمان نہیں جانتا تو ہم کون ہیں کہ اس بات کا انکار کریں۔اس جگہ میں اس تقریر کے متعلق یہ بتا دینا بھی مناسب خیال کرتا ہوں کہ اسے مالا بار کے ایک دوست نے حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں الگ چھپوا کر شائع کیا تھا۔حضرت خلیفہ اول نے اسے بہت پسند فرمایا اور شیخ رحمت اللہ صاحب لاہوری کے سامنے اسکی بہت تعریف کی اور فرمایا کہ کی بہت اشاعت ہونی چاہیئے۔چنا نچو شیخ صاحب موصوف نے اسے اپنے خرچ پرلاہور میں بار چھپوا کر شائع کروایا۔جزاہ اللہ احسن الجزا اسی طرح ایک اور جگہ حضرت سیح موعود لکھتے ہیں کہ۔" خداتعالی ارشاد فرماتا ہے اسلام اور غیر اسلام میں روحانی غذا کا قحط ڈال دونگا اور روحانی زندگی کے ڈھونڈ نے والے بجز اس سلسلہ کے کسی جگہ آرام نہ پائیں گے اور ہر ایک فرقہ سے آسمانی برکتیں چین لی جائینگی اور اس بندہ درگاہ پر جو بول رہا ہے ہر ایک نشارہ کا انعام ہوگا۔پس وہ لوگ جو اس روحانی موت سے بچنا چاہیں گے وہ اسی بندہ حضرت عالی کی رجوع کرینگے (دیکھو بر این احمدیہ حصہ جم صفر ) پھر اسی کتاب کے صفحہ ۷۳ و ۴ ، پر یوں تجربہ کرتے ہیں کہ :۔ہ محمدیوں کا پاؤں ایک بہت بلند و حکم مینار پر پڑا ہے۔محمدیوں کے لفظ سے مراد اس سلسلم کے مسلمان ہیں۔۔۔اور مقدر یوں ہے کہ وہ لوگ جو اس جماعت سے باہر ہیں وہ دن بدن کم ہوتے جائینگے اور تمام فرقے مسلمانوں کے جو اس سلسلہ سے باہر ہیں وہ دن بدان کم ہو کہ اس سلسلہ میں داخل ہوتے جائیں گے یا نابود ہوتے جائینگے جیسا کہ یہودی گھٹتے ! گھٹتے یہاں تک کم ہو گئے کہ بہت ہی تھوڑے رہ گئے ایسا ہی اس جماعت کے مانو انجام گام پھر نزول المسیح صفحہہ کے حاشیہ میں حضور نے لکھا ہے کہ :۔دو آخری زمانہ کے لیے خدا نے مقر کیا ہوا تھا کہ وہ ایک عام رجعت کا زمانہ ہوگا تا یہ امت مرحومہ دوسری امتوں سے کسی بات میں کم نہ ہو۔پس اس نے مجھے پیدا کر کے ہر ایک گذشتہ نبی سے مجھے اس نے تشبیہ دی کو ہی میرا نام رکھ دیا چنانچہ آدم ابراهیم نوح - موسی ، داؤد سلیمان پوست بیچینی۔عینی وغیرہ یہ تمام نام بر امین احمدیہ میں میرے رکھے گئے اور اس صورت میں گویا تمام انبیا گذشتہ اس امت میں دوبارہ پیدا ہو گئے یہاں تک کہ سیب کے آخر میں پیدا