کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 42 of 95

کلمۃ الفصل — Page 42

ریویو آف ریلیجز بهشت تفریق کرتا ہے اس نے مجھ کو نہیں دیکھتا ہے اور نہیں پہچانا ہے" اسی طرح صفوا میں لکھا ہے کہ :۔وہ جس نے اس بات سے انکار کیا کہ نبی علیہ اسلام کی بند چھٹے ہزار سے تعلق نہیں رکھتی ہے جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی پس اس نے حق کا ار نص قرآن کا انکار کیا کہ حق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دنوں میں بہ نسبت ان سالوں کے اقومی اور اکمل اور راشد ہے؟ ان حوالوں سے پتہ لگتاہے کہ مسیح موعود کوئی معمولی شان کا انسان نہیں ہے بلکہ امت محمدیہ میں اپنے دریہ کے لحاظ سے سب پر فوقیت لے گیا ہے یہی وجہ ہے کہ نبی کا لقب پانے کے لیئے صرف وہ چنا گیا اور باقی کسی کو یہ درجہ عطانہ ہوا۔خدا کال کے لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہم کو ہ زمانہ دیا جس پراللہ تعالیٰ کے تمام ہی ناز کرتے آئے ہیں اور جس کے پانے کے لیے اس امت کے بڑے بڑے ابدال دعائیں کرتے کرتے اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔پس ہم اللہ تعالیٰ و جسقدر بھی شکر اداکریں وہ کم ہے۔کچھ الہ تعالی نے محض اپنے فضل سے اس زمانہ میں پیدا کیا جو صحابہ کے زمانہ سے مشابہ ہے بلکہ خود صحا بہ کا زمانہ ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ :۔وہ جو میری جماعت میں داخل ہوا در حقیقت میرے سردار خیرالمرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا۔یہی وجہ ہے کہ خو نبی کریم نے اس زمانہ پر ناز کیا ہے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے آپنے فرمایا کیا ہی مبارک ہے وہ امت جس کے ایک کنارے پر میں پہلی اور دوسرے کنارے پر مسیح موعود ہے پھر ایک حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ نبی کریم نے فرمایا جو سیع کو پارے وہ اسے میرا سلام پہنچا دے آہ افسوس نبی کریم تو سیح موعود کو سلام پہنچانے کی اپنے متبعین کو وصیت کرتے ہیں مگر مسلمان ہیں کہ اسی مسیح کو کافراور د قبال بنارہے ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنا رحم کرے۔یہ مضمون کچھ طوالت چاہتا ہے گر چونکہ میرا اصل ضمون اور ہے اس لیئے میں اپنے دل پر جبر کر کے اسے چھوڑتا ہوں اور اصل بات کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔اور وہ یہ کہ کیا حضرت مسیح موعود کا ماننا جز و ایمان ہے کہ نہیں سکے متعلق کچھ میں حضرت صاحب کی کتابوں سے اوپر والے لکھ آیا ہوں باقی ماندہ ہنگا نکھ دئے جاتے ہیں۔آپ کتاب ضرورۃ الامام صفحہ ہم پر تحریر فر ماتے ہیں کہ : " کوئی ظلم ہوں