کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 28 of 95

کلمۃ الفصل — Page 28

ریویو آف ریلیجنز 116 جو بیٹا پیدا ہوا اسکے مقابل اگر اسرائیل خاندان کے سارے بیٹے بھی ترازو میں رکھے جاویں تو تب بھی اسمعیلی پا اضر ور بھکار ہیگا اسی طرح اور ٹھیک اسی طرح بیشک تو رات کو بہت سے نبی خدمت کے لیے عطا ہوئے لیکن قرآن کی خدمت کے لیے جو نبی امت محمدیہ میں پیدا کیا گیا وہ اپنی شان میں کچھ اور ہی زنگ رکھتا ہے۔علاوہ اسکے ہیں یہ بھی تو دیکھنا چاہیے کہ مسیح موعود تمام انبیاء کا مظہر ہے جیسا کہ اسکی شان میں اللہ تعالی فرماتا ہے جری اللہ فی حلل الا نبیاء اسلئے اسکے آنے سے گویا امت محمدیہ میں تمام گذشتہ نبی پیدا کیئے گئے پس نبیوں کی تعداد کے لحاظ سے بھی محمدی سلسلہ موسوی سلسلہ سے بڑھکر رہا کیونکہ علاوہ ان نبیوں اور رسولوں کے جو توریت کی خدمت کے لیے موسیٰ کو عطا ہوئے تھے اس امت میں وہ تمام نبی بھی مبعوث کیئے گئے جو موسی سر پہلے گزر چکے تھے بلکہ خود موسیٰ بھی دوبارہ دنیا میں بھیجے گئے اور یہ سب کچھ مسیح موعود کے وجود باجود میں پورا ہوا پران کیا یہ پرلے درجہ کی بے غیرتی نہیں کہ جہاں ہم لا نفرق بین احد من سر سلہ میں داؤد اور سلیمان زکریا اور بیٹی علیهم السلام کو شامل کرتے ہیں وہاں میں موجود جیسے عظیم الشان نبی کو چھوڑ دیا جاوے۔کیا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حقیقی اور مستقل نبیوں کا ذکر کیا ہے۔اگر ایسا ہے تو اس کا ثبوت پیش کیا جاوی ظاہر ہے کہ اس آیت کریمہ میں رسول کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔اب جس طرح رسول کا لفظ حقیقی اور مستقل نبیوں پر بولا جائیگا اسی طرح ملتی اور بروزی نبی پر بھی بولا جائیگا در نہ گرفتی اور بروزی نبی کو صرف نہی کے نام سے پکارنا جائز نہیں تو کیوں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کو بار ہانبی اور رسول کے الفاظ سے یاد کیا۔خدا نے تو اپنے کلام میں کبھی بھی لی یا بروزی کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ ہمیشہ صرف نبی اور رسول کے الفاظ استعمال کرتا رہا پس اگر مسیح موعود کو صرف نبی کے نام سے پکارنا جائز نہیں تو نعوذ باللہ سے پہلے نا جائز حرکت کر نیوالا خود خدا ہے۔مگر دراصل ہمارا نفس کا دھوکا ہے کیونکہ جس طرح حقیقی اور مستقل نبوتیں نبوت کی اقسام ہیں اسی طرح علمی اور بروزی نبوت بھی نبوت کی ایک قسم ہے مگر تم حقیقی استقل نیوں کو ہمیشہ صرف نبی کے نام سے پکارتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ظلی نبی کو نبی کے نام سے