کلید دعوت — Page 192
راجعون مضمون حوالہ بقره :۱۵۷ العزاء معدودا الصبر تعزیت کے معنی میر کرنا مجمع البحرین زیر لفظ تعزیت دوسروں کو صبر کی تلقین کرتا ہے۔ب اراد بالتعزى العزاء فى التصبر والتسلى عند مجمع البحرين زير لفظ تعزيمت المصيبة وشعاره ان يقول انا لله وانا اليه راجعون كما امر الله صبر کی علامت یہ ہے کہ جیسا خدا کا حکم ہے اناللہ وانا الیہ راجعون کہا جائے۔حضرت فاطمہ کو حضرت جعفر بن ابی طالب کے شہید ہونے پر فرمایا۔لا تدعى بويل ولا تكل ولا حزن واویلا نہ بچانا اور نہ من لا يحضرة الفقهية باب ہی ناجائز کلمات منہ سے نکالنا۔التعزية والجزع عند المصيبة جلد اول صفحه ۵۷ ب قال لفاطمة اذا انا مت فلا تخمشى على وجها ولا فروع کافی جلد ۲ صفحه ۲۲۸ تنثرى على شعرا ولا تنادى بالويل ولا تقيمي ة نائحة اے فاطمہ چوں بمیرم روئے خود را برائے من حیات القلوب جلد ۲ صفحه ۶۵۴ مخراش و گیسوائے خودرا پریشان مکن - جلاء العیون جلد اول صفحہ و وایلا مگو و بر من نوحة مكن و نوحه گران را ترجمه سید عبدالحین حیات القلوب مطلب۔اے فاطمہ جب میں مرجاؤں تو میرے غم میں اپنے اردو صفحہ ۱۰۰۸ باب نمبر ۶۳ چہرے کو مت زخمی کرنا اور نہ اپنے بالوں کو پریشان کرنا اور آنحضرت کی وصیتیں۔مجھ پر فرمادو نالہ اور نوحہ مت کرنا اور نہ توجہ کرنے والوں کو طلب کرتا۔-7 حضرت امام صادق فرماتے ہیں۔انا اهل البيت نجزع قبل المصيبة فاذ انزل امر من لا يحضره الفقية بلد اول الله عزوجل رضينا بقضائه وسلمناه لامره صفح٢٠ وليس لنا ان نكره ما احب الله لنا۔ہمارا طریق ہے مصیبت آنے سے قبل جمع کرتے ہیں جب خدا کا حکم آجائے تو اس کی قضا پر راضی رہتے ہیں۔