کلید دعوت — Page 177
مضمون -6 ياايها الذين امنوا من يرتد منكم عن دينه فسوف (مائده : ۵۵) ياتى الله بقوم يحبهم ويحبونه حضرت علی نے سیمین اور ان کے ہمنواؤں سے جنگ اور جہاد نہ کیا۔شیعہ حضرات کا یہ کہنا کہ حضرت علی کو صبر کی وصیت تھی یہ اس آیت میں مذکور مضمون کے منافی ہے۔جب ارتداد ہو اسی وقت جہاد فرض ہے۔تھے۔حوالہ انصار علی بھی کم نہ تھے۔علی خیبر شکن - ذو الفقار کے حامل تغیر اتمی سورۃ الروم زیر آیت اینا اضعف ناصرا واقل عددا - ياتى الله بقوم ات ذا القربى حقه صفحه ۵۰۰ لما افواجا بیعت رضوان والے۔تبوک والے خیبر و فتح کم بويع لابی بکر استکام له والے دس ہزار قدری ضرور ساتھ دیتے۔اعزة على ا لكافرين وعدہ الہی تھا۔اگر منافق لاکھوں بھی ہوں تو اسلام کو کیا فائده - في الدرك الاسفل من النار شیر خدا کو صحابہ سے نہ جان کا نہ مال کا نہ عزت کا خطرہ ہو سکتا ہے تو پھر تقیہ کی بھی تینوں وجوہات ختم ہو گئیں۔اس لئے یہ کہنا کہ حضرت علی نے تقیہ کرتے ہوئے خلفاء ثلاثہ کا ساتھ دیا غلط ثابت ہوا۔-7 موجودہ قرآن انہی منافقین ، مرتدین صحابہ کے ہاتھوں پہنچا۔اگر وہ منافق مرتد تھے تو قرآن کی صحت و حفاظت کا کیا ثبوت ہے؟ آیت حفاظت بھی انہوں نے ممکن ہے خود بنا کر داخل الامر على جميع المهاجرين والانصار کر دی ہو جیسے چور شکستہ تالا لٹکا دیتا ہے۔-8 جملہ صحابہ نے خلفاء ثلاثہ کو اپنا امام و پیشوا مانا اور حضرت -1- منار الحدئی صفحہ ۳۷۳ علی نے تینوں کی بیعت کی۔2 فروغ کافی جلد ۳ کتاب الروضه صفحه ۱۳۹ 3 استاج طبری صفحه ۴۹ 4 نج البلانہ حیدری پریس لاہور صفحه ۶۷۸۴ مکتوب نمبر ۷