کلید دعوت — Page 13
مضمون حوالہ - وظاہر ان الرفع۔۔۔الذي يكون بعد التوفية هو الفتاوی ( محمود شلوت) صفحه 63 رفع المكانة لا رفع الجسد، خصوصا وقد جاء بجانبه قوله ) مطرك من الذين كفروا) مما يدل على ان الامر امر تشریف و تکریم اور ظاہر ہے کہ جب رفع کا لفظ وفات کے بعد آئے تو اس سے مراد درجات کی بلندی ہے نہ کہ جسم کا رفع خصوصاً ایسے مقام پر کہ خدا تعالٰی نے فرمایا ( و مطهر کك من الذين كفروا ) - اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہاں پر معاملہ عزت و احترام کا ہے۔- -10 واعلم ان هذه الآية تدل على ان رفعه في قوله : التفسير الكبير جلد 7 صفحہ 69 زير ورافعك الى هو الرفعة بالدرجة والمنقبة لا آيت اذ قال الله يعيسي بالمكان و الجهة كما أن الفوقية في هذه ليست بالمكان بل بالدرجة والرفعة اور یا درکھیں کہ اس ۲- تفسیر الواضح الجز الاول صفحہ 64 آیت ( رافعک الی ) میں رفع کا لفظ درجات اور مقام میں - دکتور محمد محمود مجازی جامعہ از هر بلندی کے معنوں میں آیا ہے نہ کہ جگہ اور طرف کے مفہوم میں جیسا کہ یہاں فوقیت کا تعلق کسی جگہ سے نہیں بلکہ درجات کی بلندی سے ہے۔كيف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم واما مكم منكم بخاری کتاب بدء الخلق باب نزول قرآنی محاورہ میں لفظ نزول ہر اس چیز کے لئے بولا جاتا ہے جو عیسی بن مریم جلد دوم صفحہ 354 انسانی زندگی کے لئے غیر معمولی افادیت اور اثر رکھتی ہو۔لفظ نزول قرآن شریف میں 1 انزل لكم من الانعام ثمانية ازواج 2 انزلنا عليكم لباسا يوارى سوا تكم وريشا الزمر : 7 الاعراف: 27 -3 ان من شيء الا عندنا خزائنه وما ننزل الا بقدر الحجر : 22 معلوم -4 ينزل لكم من السماء رزقا المومن : 2