کلید دعوت — Page 117
"ليس كلا منا هذا في اخيار هم بل في اشرار هم (المدی صفحہ ۲۸) ترجمہ : ہمارا یہ کلام شریر علماء کے متعلق ہے نیک علماء اس سے مستثنیٰ ہیں۔اللہ تعالی کے انبیاء اور مامورین کے خلاف اشد معاندین ہی ہمیشہ گندی زبان استعمال کرتے رہے۔مگر اللہ تعالی کے انبیاء جو اللہ تعالی کی رحمت کے مظہر ہوتے ہیں ہمیشہ ان کیلئے رحمت کے طلب گار رہے اور ان کی ہدایت کیلئے دعا کرتے رہے۔لیکن جب معاندین اپنی اشد ترین ایزاد ھی سے باز نہ آتے تو بالاخر ان کی حقیقت حال کا بیان کرنے کیلئے انبیاء بھی ان کے خلاف سخت الفاظ استعمال کرتے رہے۔ایسے الفاظ ہرگز ہرگز گالی کا رنگ نہیں رکھتے بلکہ اظہار حقیقت کے ساتھ ساتھ ان کو تنبیہ بھی مد نظر ہوتی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے بھی اپنے اشد ترین مخالفوں اور معاندین کو یوں فرمایا :- اس زمانہ کے برے اور زناکار لوگ (مجھ سے) نشان طلب کرتے ہیں"۔(متی باب ۱۹ آیت نمبر ۱۴ پھر فرمایا۔"اے سانپ کے بچو" (متی باب ۱۲ آیت نمبر ۳۴) " آے سانپو۔اے افعی کے بچوا تم جہنم کی سزا سے کیونکر بچو گے"۔امتی باب ۲۳ آیت نمبر (۳۴) یہ سب باتیں بطور گالی نہیں بلکہ اظہار واقعہ اور بطور تنبیہ ہیں۔اسی طرح رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بھی اس قسم کا الزام لگایا گیا۔چنانچہ تاریخ میں آتا ہے :- اشراف قریش ابو سفیان کی معیت میں ابو طالب کے پاس پہونچے اور کہا کہ آپ کا بھتیجا ہمارے معبودوں کی مذمت اور ہمارے دین پر اعتراض کرتا ہے۔یہی نہیں بلکہ وہ ہماری عقل پر ہنستا اور ہمارے بزرگوں کو گمراہ خیال کرتا ہے۔اسے سمجھا دیجئے کہ ہم سے تعرض نہ کرے۔یا پھر اسے ہمارے حوالے کر دیجئے ہم خود اس سے نپٹ لیں گے"۔(سیرت الرسول صفحہ ۱۸۸ از ڈاکٹر محمد حسین حیکل اردو ترجمہ مولانا محمد وارث کامل مطبوعہ گارڈن پریس، لاہور بار دوم (۱۹۶) قرآنی اسلوب کے مطابق اپنے محل پر مظلوم کی طرف سے جو ابا سخت الفاظ استعمال کرنا بعض اوقات جائز ہی نہیں بلکہ ضروری ہو جاتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے :- "لا يحب الله الجهر بالسوء من القول الا من ظلم" (سورۃ نساء آیت نمبر (۱۲۸) یعنی اللہ تعالی بری بات کے اظہار کو پسند نہیں فرماتا ہاں مگر جن پر ظلم کیا گیا ہو۔چنانچہ حضرت مسیح موعود اپنے مظلومیت کا اظہار ان الفاظ میں فرماتے ہیں :- مخالفوں کے مقابل پر تحریری مباحثات میں کسی قدر میرے الفاظ میں سختی استعمال میں آئی تھی۔