کلید دعوت — Page 103
قیام پاکستان کے معا بعد کی کشمیر میں ہونے والی لڑائی میں احمدی مجاہدین نے "فرقان بٹالین " کی صورت میں بھر پور حصہ لیا۔چنانچہ گزار احمد صاحب خدا ایڈیٹر اخبار جہاد سیالکوٹ لکھتے ہیں۔-2 "فرقان بٹالین نے مجاہدین کشمیر کے شانہ بشانہ ڈوگرہ فوجوں سے جنگ کی اور اسلامیان کشمیر کے اختیار کردہ موقف کو مضبوط بنایا۔(اخبار جہاد سیالکوٹ ۲۲ جون ۱۹۵۰ء) -3 میجر جنرل اختر حسین ملک صاحب ان کے بارے میں ۱۹۶۵ء کی جنگ میں شاندار خدمات پر ہفت روزہ الفتح کراچی اپنے کالم احوال واقعی میں لکھتا ہے۔۱۹۶۵ء کی جنگ میں انہوں نے انتہائی دانشمندی اعلیٰ ماہرانہ صلاحیتوں اور بہادری سے کام لیتے ہوئے دشمن کے چھکے چھوڑا دیئے فوجی ماہرین کا کہنا ہے اگر کمان اختر ملک کے پاس رہتی تو الفتح ہفت روزہ کراچی ۱۳ تا ۲۰ فروری ۱۱۹۷۶ صفحه ۸) کشمیر فتح ہو گیا تھا۔- جنرل عبد العلی ملک : یہ ملک اختر حسین کے بھائی ہیں۔آپ کے متعلق الحاج عرفان را شدی داعی مجلس علمائے پاکستان یوں لکھتے ہیں۔کر رہا تھا غازیوں کی جب کمال عبدالعلی تھا صفوں میں مثل طوفان رواں عبدالعلی ہند کا وہ آتشیں طوفان مقابل اس کے وہ عزم و ثبات ٹینک یوں گرتے گئے دشمن کے جیسے خشک بات جب ہوئی تاریخ کی سب سے بڑی ٹینکوں کی جنگ فتح پائی غازیوں نے کس طرح دنیا ہے دنگ یہ جگہ یہ دن یہ ساعت عالمی تاریخ میں ثبت ہے اب در حقیقت عالمی تاریخ میں -5 میجر جنرل افتخار جنجوعہ شہید : ۱۹۶۵ء میں رن کچھ میں اور ا۱۹۷ء کی جنگ میں چھمب کے محاذ پر زیر دست کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے۔ہتھمب افتخار آباد کے نام سے مودوم ہو کر آج بھی آپ کی یاد تازہ کر رہا ہے۔(کتاب رن کچھ سے چونڈہ تک صفحه ۳۵) - بریگیڈیئر ممتاز ہلال جرات - 1921ء میں حسینی والا سکیٹر میں شجاعت کے باب روشن کرتے رہے۔(امروز لاہور ۵- دسمبر ۱۹۷۱ء صفحہ ۱) -7 ریٹائرڈ ایئر مارشل ظفر چوہدری : ۱۹۷۵ء کی پاک بھارت جنگ میں ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں ستارہ قائد اعظم دیا گیا۔(امروز لاہور ۵ مارچ ۱۹۴۲ء صفحه ۳) خلاصہ کلام یہ کہ دوسرے فرقے تو جہاد کے صرف دعوے کرتے ہیں لیکن دعوئی ہی نہیں بلکہ جماعت احمدیہ ہر قسم کے جہاد میں شامل ہونے کے لحاظ سے نمایاں اور اعلیٰ اور منفرد مقام رکھتی ہے۔اعتراض :- احمدیت انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے حضرت بانی جماعت احمدیہ کی وہ تحریر جس کی بناء پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ آپ اور آپ کی جماعت