کلید دعوت — Page 93
مضمون یعنی وہ صاحب اوصاف مجازی نہ رہے طبع 1986ء شور مسلمان تا بود ہے ہو گئے دنیا سے ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہندو مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہوں۔عالمان از علم قرآن بے درنده گرگ صوفیاں وفو حوالہ نیاز جاوید نامه صفحه ۲۴۳ دراز بے خبر از سر دیں اند ایں ہمہ اہل کہیں اند اہل میں اند ایں ہمہ علماء علم قرآن سے بے بہرہ ہیں اور صوفیاء پھاڑنے والے بھیڑیے ہیں۔یہ سب کے سب دین کے اسرار سے بے خبر ہیں اور بڑے بھی کینہ پرور ہیں۔7 مولانا ابو الکلام آزاد لکھتے ہیں۔-9 اج دنیا پھر تاریک ہے اور روشنی کے لئے تشنہ ہے۔۔۔۔المال جلد ۲ صفحہ ۱۰۳ شیطان اس وقت سے موجود ہے جس وقت سے کہ انسان ہے تا ہم معصیت کی حکومت اتنی جابر و قاہر کبھی بھی نہ ہوئی تھی اور شیطان کا تخت اس عظمت اور دبدبہ سے کبھی بھی زمین کی سطح پر نہ بچھایا گیا تھا جیسا کہ اب قائم و مسلط ہے۔مولوی شکیل احمد سوانی نے ۱۸۹۲ ء میں کہا۔صفحه ۱۳۳) دین احمد کا زمانہ سے مٹا جاتا ہے نام الحق الصریح فی حیاة المسبح قمر ہے اے میرے اللہ ! ہوتا کیا ہے خلق خدا سے پیار نہ خالق سے واسطہ رساله ۱۳ اکتبر ۱۷۴ پالپور اس درجہ گر گئے ہیں مقام بشر سے ہم و کمبر ۰۶۱۹۶۴ ہیں شکل میں نصاری تو کردار میں یہود کس دل سے پیار کرتے ہیں خیر البشر سے ہم 10 نفی شرک و بدعت ، منع تقلید کے پیچھے مولویوں میں رات دن قصہ بکھیڑا رہتا ہے ایک دوسرے کو کافر بتاتا ہے حق کو