کلام محمود — Page 77
66 اُس کے ماموروں کو کھوتم دل وجاں سے عزیز اُس کے نبیوں کے رہو تم چاکر د خدمت گذار اُس کے بھوں کو نہ ڈالو ایک سم کے واسطے بال دولت جان بول ہر ھے کرو اس پر نشانہ ساری دنیا میں کرو تم مشتہر اس کی کتاب تاکہ ہوں بیدار وہ بند سے جو میں غفلت شعار ابتدار میں لوگ گور پاگل پکاریں گے تمھیں اور ہوں گے در تے ایڈا رہی دیوانہ وار گالیاں دیں گے تمھیں کا فر بتائیں گے تمھیں جس طرح ہو گا گریں گے وہ تمھیں رسوا و خوار سنگ باری سے بھی ان کو کچھ نہ ہوگا اجتناب بے جھجک دکھلائیں گے وہ تم کو تیغ آبدار پر خدا ہو گا تمہارا ہر مصیبت میں معین شتر سے دشن کے بچائے گا تمھیں لیل ونہار اُس کی اُلفت میں کبھی نقصاں اُٹھاؤ گے نہ تم اُس کی الفت میں کبھی ہوگے نہ تم رسوا و خوار استعمال میں پورے اُترے گر تو پھر انعام میں عام وصل یار پینے کو ملیں گے بار بار تم پہ کھولے جائیں گے جنت کے دردان ہے ہیں تم پہ ہو جائیں گے سب سہرابر قدرت آشکار درد میں لذیلے گی دُکھ میں پاؤ گے سردار بے قراری بھی اگر ہوگی تو آئے گا قرار سرنگوں ہو جائیں گے شیشن تمہارے سامنے مکتبھی ہوں گے برائے عفو وہ با حال زار الغرض یہ عشق مولیٰ بھی عجب اک چیز ہے جو گداگر کو بنا دیتا ہے دم میں شہر یار بس یہی اک راہ ہے میں سے کہ ملتی ہے تجا بس یہی ہے اک طریقہ جس سے ہو عزر دو قا