کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 302

کلام محمود — Page 9

کس لیے خوش ہے یہ کھ کو بات ہاتھ آئی ہے کیا یہ نہ خوش ہونے کے دن ہیں بلکہ تھرانے کے ان مہد کی آخر زماں کا کس طرح ہو گا ظہور جب نہ آئینگے کبھی اس دیس کے اٹھ جانے کے ن دین احمد پر اگر آیا زمانہ مضعف کا آپ کے تب تو میسح وقت کے آنے کے دن کچھ بھی گر عقل و خرد سے کام تو لیتا تو یہ دیں میں جو میں بل پڑے ہیں انکے سکھانی کے دن تو تو ہنستا ہے گھر روتا ہوں میں اس فکر میں ڈو میں اس دنیا سے اگر دنیا کے اٹھ جانے کے دبن جلد کر توبہ کہ پچھتانا بھی پھر ہو گا فضول ہاتھ سے جاتے رہیں گے جبکہ پچھتانے کے بین اک قیامت کا سماں ہوگا کہ جب آئینگے وہ مال کی ویرانی کے اور جان کے کھانے کے دن گو کہ اُس دن پھیل جائے گی تباہی چارٹو جبکہ پھر آئیں گے یارو زلزلہ آنے کے دن پھر بھی مردہ ہے انہیں جو دین کے انوار ہیں کیونکہ دو دن ہیں یقینا دیں کے پھیلانی کے دن يَا مَسيحَ الْخَلْقِ عدوانا پکار اٹھینگے لوگ خود ہی منوانے گا سر سے یار منوانے کے دن اسے عزیز دہلوی شن رکھ یہ گوش ہوش سے پھر بہار آئی تو آئے زلزلہ آنے کے دن ہے دُعا محمود کی مجھ سے مرے پیارے خُدا ہو محافظ تو ھمارا خون دل کھانے کے دن