کلام محمود — Page 213
جاں میری گھٹتی جاتی ہے دل پارہ پارہ ہوتا ہے تم بیٹے ہو چپ چاپ جوئیوں کیا تم میرے وگدار نہیں میں تیرے فن کا شاہد ہوں تو میری کمزوری کا گواہ تجھ سابھی طبیب نہیں کوئی مجھ سا بھی کوئی بیمار نہیں وہ جو کچھ مجھ سے کہتا ہے پھر میں جو اس سے کہتا ہوں اک راز محبت ہے جس کا اعلان نہیں اظہار نہیں میں ہر صور س سے اچھا ہوں اک دل میں سوزش رہتی ہے گرمشق کوئی آزار نہیں مجھ کو بھی کوئی آزار نہیں کیا اس سے بڑھ کر را دست کہاں نکلے تیرے ہاتھوں میں تو جان کا لینے والا بین مجھ کو تو کوئی انکار نہیں