کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 302

کلام محمود — Page 211

اے بے یاروں کے یار نگاہ لطف غریب مسلماں پر اس بیچارے کا ہندوستاں میں اب کوئی بھی یار نہیں اے ہند کے مسلم صبر بھی کر ہمت بھی کر شکوہ بھی کر فریادیں کو الفاظ ہی ہیں پر پھر بھی وہ بے کار نہیں ہر حکم بھی شہہ ہر بات بھی من پر دین کا دامن تھامے رہ غدار نہ بن بُزدل بھی نہ بن یہ مومن کا کردار نہیں تو ہندوستان میں روتا ہے میں پاکستان میں گڑھتا ہوں ہے میرا دل بھی زار فقط تیرا ہی حال زار نہیں اگر جائیں ہم سجدہ میں اور ستجادوں کو تر کر دیں اللہ کے در پر سر پلکیں جس سا کوئی دربار نہیں اخبار الفضل جلد ۵ - لاہور پاکستان - ۲۰ ر مارچ ساله