کلام محمود — Page 184
IAM ١٢٣ اللہ کے پیاروں کو تم کیسے بُرا سمجھے خاک ایسی سمجھد پر ہے سمجھے بھی تو کیا مجھے شاگرد نے جو پا یا استاد کی دولت ہے احتمال کو محمد سے تم کیسے جُدا مجھے دشمن کو بھی جو مومن کہتا نہیں وہ باتیں تم اپنے کرم سرما کے حق میں روا مجھے جو چال چلے ٹیڑھی جو بات کسی اُلٹی بیماری اگر آئی تم اس کو شفا مجھے لعنت کو پکڑ بیٹھے انعام سمجھ کر تم حق نے جو روا بھیجی تم اس کو کر دی مجھے کیوں قعر مذلت میں گرتے نہ پہلے جاتے تم بوم کے سائے کو جب حق شما مجھے انصاف کی کیا اس سے اُمید کرے کوئی بے داد کو جو ظالم آئین دنا مجھے و غفلت تری رائے مسلم کب تک چلی جائے گی سمج یا فرض کو تو سمجھے یا تجھ سے خدا سمجھے اخبار الفضل جلد ۳۳ - ۲۸ دسمبر ۰۹۳۶