کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xii of 302

کلام محمود — Page xii

۲۴۲ ۲۴۳ ۲۴۵ ۲۴۸ ۲۵۲ ۲۵۵ ۲۵۶ ۲۵۸ ۲۵۹ سهم ۶ ۲۶۵ MA ۲۶۹ 16+ ی 144 164 16A 149 [A+ JA jar JAY IAM د JAY 1A4 JAA ۱۹ 19۔۱۹۳ 147 ۱۹۵ دل کعبہ کو چھلا میرا ثبت خانہ چھوڑ کر ہے مدت سے شیطان کے ہاتھ آئی دلبر کے در پہ جیسے ہو ، جانا ہی چاہیے ہے تاروں کی دُنیا بہت دُور ہم سے آدم سے لے کر آج تک پیچھا ترا چھوڑا نہیں میں نے مانا میرے دلبر تبری تصویر نہیں کر رہا ہے بھوک کی شدت سے بیچارہ غریب بڑھتی رہے خدا کی محبت خدا کرے دید کی راہ بتائی تھی ہے تیرا احسان کرد جان قربان راہِ خدا میں اے خدا ! دل کو میرے مزرع تقومی کر دیں میرے آقا ! پیش ہے یہ حاصل شام و سحر ہوئی طے آدم و حوا کی منزل اُنس و قربت سے بلا کی آگ برستی ہے آسماں سے آج ایک دل شیشہ کی مانند ہوا کرتا ہے آمد کا تیری پیارے ہو انتظار کب تک جناب مولوی تشریف لائیں گے تو کیا ہو گا خدا کی رحمت سے مہر عالم افقی کی جانب سے اُٹھ رہا ہے قدموں میں اپنے آپ کو مولا کے ڈال تو دل دے کے مشت خاک کو دلدار ہو گئے