کلام محمود — Page 89
دشمن حق میں گو بہت لیکن کام دے گی انہیں نہ کچھ تعداد کفر و اسکار کے بنانے کی حق نے رکھی ہے تجھ میں استعداد فتح تیرے لیے مقدر ہے تیری تائید میں ہے رہت عباد قصر کفر و ضلالت و بدعت تیرے ہاتھوں سے ہو گا اب ہر باد ہاں تیری راہ میں ایک دوزخ ہے جس میں بھڑکی ہے نار بغض و عناد کہ انکے شعلوں کی زد میں جو آ جائے دیکھتے دیکھتے ہو مل کے رماد پر نہ لا خوف دل میں تو کوئی کیونکہ ہے ساتھ تیرے رب عباد بے دھڑک اور بے خطر اس میں خود جاکہ کے ہرچه بادا باد