کلام محمود — Page 88
تیسرا در چھوڑ کر کہاں جائیں کس سے جاکر طلب کریں امداد چاروں اطراف سے گھرے ہیں ہم آگے پیچھے ہمارے سے ہیں محتار ہے ادھر پاشکستگی کی قید اور اُدھر سر پر آگیا میاد زلزلوں سے ہماری ہستی کی ہل گئی سر سے پا تلک بنیاد کچھ تو فرمائیے کریں اب کیا کچھ تو اب کیجئے ہمیں ارشاد کب تلک بے گناہ رہیں گے ہم تختہ مشق بازوئے جلاد تب علیم فریب ٹوٹے گا کب گرے گا وہ پنجہ فولاد ان دکھوں سے نجات پائیں گے کب ہوں گے کب ان نغموں سے ہم آزاد کب رہا ہو گی قید سے فطرت دُور کب ہوگا دور استبداد شان اسلام ہوگی کب ظاہر کب مسلماں ہوں گے خرم وشاد پوری ہوگی یہ آرزو کسی وقت کب بر آئے گی یہ ہماری مراد میں بھی کہتا ہوں آج تجھ سے وہی جو ہیں پہلے سے کہہ گئے اُستاد نام لیوا رہے گا تیرا کون ہم اگر ہو گئے یوسی برباد کون ہوگا خدا تیرے رُخ پر کون کہلائے گا تیرا فریاد کون رکھے گا پھر امانت عشق کس کے دل میں رہے گی تیری یاد احمدی اٹھ کہ وقت خدمت ہے یاد کرتا ہے تجھ کو ربت عباد شکر کر شکر یاد کرتا ہے گدگداتی تھی دل کو جس کی یاد خدمت دیں ہوئی ہے جیسے پیرو دُور کرنا ہے تو نے شر و فساد تجھ پہ ہے فرض نصرت السلام تجھ پہ واجب ہے دعوت ارشاد خدمت دیں کے واسطے ہو جا ساری قیدوں کو توڑ کر آزاد