کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 302

کلام محمود — Page 18

A یہ ایک دریائے معرفت لگائے اس میں جو ایک غوطہ تو اس کی نظروں میں ساری دنیا فریب سے بھوٹ سے دعا ہے مگر مسلمانوں پر ہے حیرت جنہوں نے پائی ہے ایسی نعمت ولوں پہ چھائی ہے پھر بھی غفلت نیاد عقبی ہے نے خُدا ہے نہیں ہے کچھ دیں سے کام ان کا یونسی مسلماں ہے نام ان کا ہے سخت گندہ کلام ان کا ہر ایک کام ان کا فتنہ زا ہے زمیں سے جھگڑا فلک سے قضیہ یہاں ہے شور اور وہاں شہر با نہیں ہے اک دم بھی چین آنا خبر نہیں ان کو کیا ہوا ہے یہ چلتے ہیں یوں اکٹڑ اکڑ کر کہ گویا ان کے ہیں جبر اور پیر پڑے میں ایسے سمجھ پہ پتھر کہ نرم ہے کچھ نہ کچھ حیا ہے لڑیں گے آپس میں بھائی باہم نہ ہو گا کوئی کسی کا ہمدم میرا پیارا رسول اکرم۔یہ بات پہلے سے کہا گیا ہے نہ دل میں خوب خُدا رہے گا نہ دین کا کوئی نام لے گا فلک پہ ایمان جا چڑھے گا یہی ازل سے لکھا ہوا ہے مگر خدائے رحیم درحماں جو اپنے بندوں کا ہے نگہباں جو ہے شہنشاہ جن و انساں جو ذرہ ذرہ کو دیکھتا ہے کرے گا قدر سے اپنی پیدا وہ شخص جس کا کیا ہے عدہ میسیج دوران مثیل میں جو میری اُمت کا رہنما ہے سوساری باتیں ہوئی ہیں پوری نہیں کوئی بھی رہی ادھوری دیوں میں اب بھی رہے جو دوری تو اس میں اپنا تصور کیا ہے