کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 302

کلام محمود — Page 258

۲۵۰ میرے آقا ! پیش ہے یہ حاصل شام دھر سینہ صافی کی آئیں آنکھ کے لعل و گہر میں نے سمجھا تھا جوانی میں گذر جاؤنگا پیار اب جو دیکھا سامنے ہیں پھر وہی خوف وخطر کثرت آنام سے ہے غم ہوئی میری عمر اب میں اس کا مداوا ہے کہ کر دیں درگذر آپ تو ہیں مالک ارمن وسمائے میری ماں آپ کا خادم مگر پھرتا ہے کیوں یوں در بدر بے سرو ساماں ہوں اس دنیا میں اسے میرے خُدا اپنی جنت میں بنا دیں آپ میرا ایک گھر آدم اول سے لیکر وہ ہے زندہ آج تک ایسی طاقت دے کچل ڈالوں میں اب شیطاں کا سر مومن کامل کا گھر ہے جنت اعراف میں اور دوزخ کا میکس ہے جو بنا ہے مَن كَفَرُ دہ بھی او قبل ہے مری آنکھوں سےجو ہے سامنے ہے ترے علم ازل میں جو ہے نائب مستتر میرے ہاتھوں میں نہیں ہے نیک ہو یا ب ہو بلک میں تیری ہے یارب خیر ہو وہ یا کہ شر آج سب مسلم خواتیں کی ہیں عریاں زینتیں تونے فرمایا تھا ہے پردے سے باہر ماظهر سایہ کفار سے رکھیں مجھے باہر ہمیش اے میرے قدوس اے میرے ٹکیک بحر و بر لاکھ حملہ کی ہو مجھ پر فتنہ زندیقیت پیچ میں آجائیو بن جائو میری بیٹر میں ترے بندے مگر ہاتھوں کی طاقت سب سے کفر کا خیمہ لگا ہے قریہ قریہ گھر بہ گھر جن کو حاصل تھا تقرب دہ ہیں اب معتوب دہر اور میں مسند پہ بیٹے جو ہیں چھتر اور خر اخبار الفضل جلد ۱۱-۳۱ دسمبر سه ربوه - پاکستان