کلام محمود — Page 176
144 ۱۱۵ کبھی حضور میں اپنے جو بار دیتے ہیں ہوا و حرص کی دُنیا کو مار دیتے ہیں ده عاشقوں کے لیے بیقرار ہیں خود بھی وہ بے قرار دلوں کو قرار دیتے ہیں بکسی کا قرض نہیں رکھتے اپنے سر پر وہ جو ایک دے انہیں اس کو ہزار دیتے ہیں عطار بخشش و انعام کی کوئی حد ہے جسے بھی دیتے ہیں کہ بیشمار دیتے ہیں جو اُن کے واسطے اوٹی سا کام کرتا ہے وہ دین ودنیا کو اُس کی سُدھار دیتے ہیں جو دن میں آہ بھرے ان کی یاد میں اک بار وہ رات پہلو میں اُس کے گزار دیتے ہیں بگاڑے کوئی ان کے لیے جو دنیا سے وہ سات پشت کو اُس کی سنوار دیتے ہیں وہ جیتنے پر ہوں مائل تو عاشق صادق خوشی سے جان کی بازی بھی ہار دیتے ہیں وہی فلک پہ چمکتے ہیں جن کے شمس و قمر بو در پہ یار کے عمریں گزار دیتے ہیں وہ ایک آہ سے بتیاب ہو کے آتے ہیں ہم اک نگاہ پہ سو جان ہار دیتے ہیں جو تیرے عشق میں دل کو لگے ہیں زخم اے جہاں ادھر تو دیکھ وہ کیسی بہار دیتے ہیں اخبار الفضل جلد ۳۲ - ۲ اگست ۱۹۳۳مه