کلام محمود — Page 157
46 موت اس کی رہ میں گر تمہیں منظور ہی نہیں کہ دو کہ عشق کا ہمیں معت دور ہی نہیں کیوں جرم نقض عہد کے ہوں ترکیب جناب جب آپ صمد کرنے پر ٹور ہی نہیں مومن تو جانتے ہی نہیں بزدلی ہے کیا اس قوم میں فرار کا دستور ہی نہیں ڈر کا اثر ہو ان پر نہ لالچ کا ہو اثر ہوش آئیں جن کو ایسے یہ مضموڑ ہی نہیں دل دے چکے تو ختم ہوا قعہ حساب مشوق سے حساب کا دستور ہی نہیں پھر فن میں غوطہ لگانے کی دیر ہے منزل قریب تر ہے وہ کچھ دور ہی نہیں دشمن کی چیرہ دستیوں پر اے خدا گواہ ہمیں زخم دل بھی سینے کے ناسور ہی نہیں اس میم روز کو دیکھیں تو کس طرح آنکھوں میں ظالموں کے اگر نور ہی نہیں اخبار المفضل بعد ۲۲-۲۹ رسم رب تشنه