کلام محمود — Page 132
۱۳۲ پہنچائیں در پہ یار کے وہ بال و پر کہاں دیکھے جمال یار جو ایسی نظر کہاں کر دے رسا دُعا کو میری وہ اثر کہاں کھو دے جو سب گند میرے وہ چشم تر کہاں ہر شب اسی اُمید میں سوتا ہوں دوستو ! شاید ہو وسل یار میتر، مگر کہاں سجدہ کا اذن دے کے مجھے ماہور کیا پاؤں ترے کہاں مرا ناچیز سر کہاں میری طرح ہر اک ہے یہاں مبتلائے عشق حیران ہوں کہ ڈھونڈوں میں اب نامہ بر کہاں از بس که انفعال سے دل آب آب تھا آنکھوں سے بہہ گیا میرا نور نظر کہاں فرقت میں تیری ہر جگہ ویرانہ بن گئی اب زندگی کے دن یہ کروں میں بسر کہاں هر لحظه انتظار ہے ہر وقت جستجو رہتا ہے اب تو منہ پہ میرے بس کدھر کہاں جب نقد جان سونپ دیا تجھ کو جان من پاس آسکے بھلا مرے خوف و خطر کہاں کچھ بھی خبر نہیں کہ کہاں ہوں کہاں نہیں جب جان کی خبر نہیں تن کی خبر کہاں حیران ہوں کہ دن کسے کہتے ہیں دوستو! سُورج ہی جب طلوع نہ ہو تو سحر کہاں عاشق کے آنسوؤں کی ذرا آب دیکھ لیں میرے کہاں ہیں لعل کہاں ہیں گھر کہاں درد آشنائی غم ہجراں میں میں کہاں فرقت نصیب مادر و نا قد پدر کہاں اخبار الفضل جلد ۱۴- ۱۹ اکتوبرته