کلام محمود — Page 131
بجا ہے ساری دنیا ایک لفظ میں کا ہے نقش پدھر دیکھو چک اس کی مدھر کیوں طور اس کا میرے ہمراز سب دنیا کا کام اس میں پر ہے چلتا مگر میں بھی بھی ہوتی ہے جب ہو سامنا تو گا بھلا وہ کیا کریں مین کو جو ان کی یاد سے اُتریں دل مایوس سینہ میں اندھیرا چاروں جانب میں نہ آنکھیں ہیں کہ رہ پائیں نہ پر ہیں جن سے اڑ جائیں نہ احساس انا نیست کہ اس کے زور سے نہیں مرے دلدار ہم پر بندیں سب مسل کی راہیں سوا اس کے کراب خود آپ ہی کچھ لطف فرمائیں ہمارے بیکسوں کا آپ کے بن کون ہے پیارے نظر آتے ہیں مارے غم کے اب تو دن کو بھی تارے نہیں دل اپنے سینوں میں دیے ہیں بلکہ انگارے پھینکے جاتے ہیں سر سے پاؤں تک ہم ہمبر کے بارے بس اب تو رحم فرمائیں چلے آئیں چلے آئیں