کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 302

کلام محمود — Page 120

دل میرا بے قرار رہتا ہے سینہ میرا نگار رہتا ہے نیک وبد کا نہیں مجھے کچھ ہوش سر میں ہر دم خمار رہتا ہے تیرے عاشق کا کیا بتائیں حال رات دن اشکبار رہتا ہے اس کی شب کا نہ پوچھ تو جس کا دن بھی تاریک و تار رہتا ہے دل مرا توڑتے ہو کیوں جانی آپ کا اس میں پار رہتا ہے کیا برائی یہ رسم ہے عاشق دے کے دل بے قرار رہتا ہے المدد ! ورنہ لوگ سمجھیں گے تیرا بندہ بھی خوار رہتا ہے مجھ کو گندہ سمجھ کے مست دشتکار قرب گلی میں ہی مار رہتا ہے ہے دل سوختہ کی بھاپ طبیب تو یہ بھا بخار رہتا ہے وحشت عارضی ہے ورنہ حضور کہیں بندہ فرار رہتا ہے باب رحمت نہ بند کیجئے گا ایک اُمیدوار رہتا۔اس کو بھی پھینک دیجئے گا کہیں ایک مسٹمی غبار رہتا ہے فکر میں جس کی گھل رہے ہیں ہم ان کو ہم سے نھار رہتا ہے برکتیں دینا گالیاں سننا اب یہی کا روبار رہتا ہے فربہ تن کس طرح سے ہو محمود رنج وغم کا شکار رہتا ہے اخبار الفضل جلد ۱۲ - ۱۶ جون ۱۹۲۵ء ہے