کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 302

کلام محمود — Page 84

۴۵ بقمت احمد کے ہمدردوں میں غمخواروں میں نہیں بیوفاؤں میں نہیں ہوں میں وفاداروں میں انہوں فخر ہے مجھ کو کہ ہوں میں خدمت سرکار میں ناز ہے بھگو کہ اس کے ناز برداروں میں ہوں سرمین ہے جوش جنوں دل میں بھرا ہے اردو علم میں دیوانوں میں شامل ہوں ہشیاروں میں ہوں پوچھتا ہے مجھ سے وہ کیونکر ترا آنا ہوا کیا کہوں اس سے کہ میں تیرے طلبگاروں میں ہوں میں نے مانا تو نے لاکھوں نعمتیں کی ہیں عطا پر میں ان کو کیا کروں تیرے طلبگاروں میں منفوس شاہوں کی کیا ضرورت ہے کیسے انکار ہے میں تو خود کہتا ہوں مولی میں گنہگاروں میں ہوں حملہ کرتا ہے اگر دشمن تو کرنے دو اسے وہ ہے اغیاروں میں میں اس بار کے پیروںمیں نئیں فکتیں کافور ہو جائیں گی اک دن دیکھنا میں بھی اک نورانی چہرہ کے پرستاروں میں ہوں اصل دنیا کی نظر میں خواب غفلت میں ہمیں میں اصل دل پر جانتے ہیں یہ کہ بیداروں میں ہوں ہوں تو دیوانہ مگر بہتوں سے معاقل تر ہوں میں ہوں تو بیماروں میں لیکن تھے بیماروں میں ہوں مدتوں سے مر چکا ہوتا غم و اندوہ سے گرنہ یہ معلوم ہوتا میں تیرے پیاروں میں ہوں جانتا ہے کس پہ تیرا وار پڑتا ہے مدد کیا تجھے معلوم ہے کسی کے جگر پاروں میں ہوں ساری دنیا چھوڑے پر میں نہ چھوڑوں گا تجھے درد کہتا ہے کہ میں تیرے وفاداروں میں ہوں ہو رہا ہوں مست دید چشم مست یار میں لوگ یہ سمجھے ہوئے بیٹھے ہیں مےخواروں میں ہوں عشق میں کھوئے گئے ہوش وحو اس دفکر وقتل اب سوال دید جائز ہے کہ ناداروں میں ہوں گو مرا دل مخزن تیر نگاہ یار ہے پر یہ کیا کم ہے کہ اس کے تیر بزاروں میں ہوں اخبار الفضل - جلد ۱ - ۲۷ اگست ۱۹۱۳