کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 302

کلام محمود — Page 78

۴۱ روڑے جاتے ہیں بامید بنا ہوئے باب شاید آجائے نظر رُوئے دل آرا بے نقاب غافل کیوں ہو رہے تو عاشق چنگ در باب آسمان پکھل رہے ہیں آج سب عرفان کباب مست ہو کیوں اس قدر اغیار کے اقوال پر اس شہر خوباں کی تم کیوں چھوڑ بیٹے ہو کتاب اس تم کیا بہوا کیوں عقل پر ان کے پتھر پڑ گئے چھوڑ کر دیں عاشق دنیا ہے تے ہیں شیخ و شاب نے پیچھے چھوڑے جاتے ہیں یا ک من میں بھاگے جاتے ہیں یہ احمق کیوں بھلا کوئے جاتے امر بالمعروف کا بیڑا اٹھاتے ہیں جو لوگ ان کو دینا چاہتے ہیں ہر طرح کا یہ مذاب پر جو مولیٰ کی رضا کے واسطے کرتے ہیں کام اور ہی ہوتی ہے ابھی عزوشان و آب تاب دہ شجر میں سنگباروں کو بھی جو دیتے ہیں پھل ساری دُنیا سے بالا ان کا ہوتا ہے جواب لوگ اُن کے لاکھہ روشن ہوں کہ سب کے دوست ہیں ناک کے بدلے میں ہیں وہ پھینکتے مشک گلاب یا الہی آپ ہی اب میری نصرت کیجئے کام میں لاکھوں مگر ہے زندگی مثل حباب ہیں کیا بتاؤں کس قدر کمزوریوں میں ہوں پھنسا سب جہاں بیزار ہو جائے جو ہوں میں سے نقاب میں ہوں خالی ہاتھ مجھ کو یونسی جانے دیجئے شاہ ہو کر آپ کیا لیں گے فقیروں سے حساب تشنگی بڑھتی گئی جتنا کیا دُنیا سے پیار پانی سمجھے تھے جسے وہ تھا حقیقت میں سراب رساله تشحمید الا زبان ماہ فروری سالاد