کلام محمود — Page 69
مٹا دیتا ہے سب زنگوں کو دل سے اسی سے قلب کو ملتی جلا ہے یہ ہے تسکیں دو عشاق مضطر مریضان محبت کو شنا ہے خضر اس کے سوا کوئی نہیں ہے یہی بھولے ہوؤں کا رہنما ہے جو اس کی دید میں آتی ہے لذت کہ سب دنیا کی خوشیوں سے ہوا ہے جو ہے اس سے الگ حق سے الگ ہے جو ہے اس سے جُدائی سے جدا ہے یہ ہے بے عیب ہر نقص دکھی سے کرے جو حرف گیری بے حیا ہے ہیں حاصل ہے اس سے دید جاناں کہ قرآن مظهر شان خدا ہے حدا نے ہم کو دی ہے کامرانی فَسُبْحَانَ اللَّذِي أَدْنَى الْأَمَا فِي ہیں اس دُنیا میں جتنے لوگ حق ہیں سچائی سے جنھیں کوئی نہیں رکیں دہ دل سے مانتے ہیں اس کی خوبی وہ پاتے ہیں اسی میں دل کی تیکس خُدا نے فصل سے اپنے نہیں بھی کھلائے اِس کے ہیں اثمار شیریں حفیظہ جو میری چھوٹی بہن ہے نہ اب تک وہ ہوئی تھی اس میں رنگیں ہوئی جب ہفت سالہ تو خُدا نے یہ پہنایا اُسے بھی تاج زریں کلام اللہ سب اس کو پڑھایا بنا یا گلشن قرآں کا گل میں زباں نے اس کو پڑھ کر پائی برکت ہوئیں آنکھیں بھی اس سے نور آ گئیں اکٹھے ہو رہے ہیں آج احباب منائیں تاکہ مل کر روز آمین ہوئے چھوٹے بڑے ہیں آج شاداں نظر آتا نہیں کوئی بھی غمگیں حدا نے ہم کو دی ہے کامرانی فَسُبْحَانَ اللَّذِي أَدْنَى الْأَمَانِي