کلام محمود — Page 68
ہماری رات بھی ہے نور افشاں ہماری مسیح خوش ہے شام مسرور خدا نے ہم کو وہ جلوہ دکھایا جو موسیٰ کو دکھایا تھا سرِ طور ہلے ہم کو وہ اُستاد و خلیفہ کہ سارے کہہ اُٹھے نور کلے نُور حدا نے ہم کو دی ہے کامرانی فَسُبْحَانَ اللذِي أَولَى الْأَمَانِي خُدا کا اس قدر ہے ہم پر احسان کہ جس کو دیکھ کر ہوں سخت حیراں نہیں معلوم کیا خدمت ہوئی تھی کہ سکھلایا کلام پاک یزداں ہزاروں ہیں کہ ہیں محروم اس سے نظر سے جن کی ہے وہ نور پنہاں جسے اس نور سے حصہ نہیں ہے نہیں زندوں میں ہے وہ جسم بے جاں یہی دل کی تسلی کا ہے موجب راسی سے ہو میکسر دید جاناں اسی میں مردہ دل کی زندگی ہے میں کرتا ہے ہر مشکل کو آساں یہ ہے دنیا میں کرتا رہنمائی یہ عقبی میں کرے گا شاد و فرحاں میں ہر کامیابی کا ہے باعث یہی کرتا ہے ہر مشکل کو آساں بلاتا ہے یہی اُس دلربا سے یہی کرتا ہے زائل درد ، ہجراں یہ نعمت ہم کو بے خدمت کی ہے سکھایا ہے ہمیں مولیٰ نے قرآں خدا نے ہم کو دی ہے کامرانی فَسُبْحَانَ اللَّذِي أَولَى الْأَمَانِي کلام اللہ میں سب کچھ بھرا ہے یہ سب بیماریوں کی اک دوا ہے یہی اک پاک دل کی آرزو ہے میں ہر متقی کا مدعا ہے یہ جامع کیوں نہ ہو سب خوبیوں کا کہ اس کا بھیجنے والا خدا ہے