کلام محمود — Page 59
کے عشق خدا میں سخت ہی مخمور بہت ہوں یہ ایسا نشہ ہے جس میں کہ ہردم چور رہتا ہوں وہ ہے جو میں مال غیر وں پردہ ہے اسے لازم تبھی تو پیشم بد بیاں سے میں ستور رہتا ہوں قیامت ہر کہ وصل یار میں بھی رنج فرقت ہے۔میں اس کے پاس رہ کر بھی ہمیشہ دور رہتا ہوں لیا کیوں ڈرتہ پری و اداری نہ کیوں چھوڑی نگاہ دوستاں میں میں کبھی مقہور رہتا ہوں مجھے اس کی نہیں پر وا کوئی ناراض ہو بیشک میں غداری کی سرے سے بہت ہی دور رہتا ہوں مجھے فکر معاش و پوشش و خور کا الم کیوں ہو میں عشق حضرت یزداں میں جب خود رہتا ہوں تڑپ سے دین کی مجھ کو اسے دنیا کی لانچ ہے مخالف پر ہمیشہ میں تبھی منصور رہتا ہوں اُسے ہے قوم کا غم اور یں دنیا سے بچتا ہوں میں اب اس دل کے ہاتھوں محبت مجبور رہتا ہوں اخبار بدر جلد ۸ در جولائی شاه ☆