کلام محمود — Page 58
DA گرمی اُلفت سے ہے یہ زخم دل مرہم کا فور سے کل پائے کون اے مسیما تیرے سودائی جو ہمیں ہوش میں مبتلا کہ ان کو لائے کون کو تو راں جنت میں خوش اور شاد ہے ان غریبوں کی خبر کو آئے کون اے سیما ہم سے گو تو پھٹ گیا دل سے پر اگفت تری چھڑوائے کون جانتا ہوں کینسر کرنا ہے تو اب اس دل نادان کو سمجھائے کون تجھ سے بھی ہم کو تسلی ہر گھڑی تیرے مرنے پر ہیں بہلائے کون کون دے دل کو میرے صبر و قرار اشک تو نہیں آنکھ سے پچھوائے کون