کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 302

کلام محمود — Page 40

۲۰ یہ اپنی رحم کر اپنا کہ میں بھیار ہوں دل سے تنگ یا ہوں اپنی جان سے بیزار ہوں بس نہیں چلتا تو پھر میں کیا کروں لاچار ہوں ہر مصیبت کے اُٹھانے کے لیے تیار ہوں ہو گئی ہیں انتظار یار میں آنکھیں پید اک بُبت نہیں بدن کا طالب دیدار ہوں کرم خاکی ہوں نہیں رکھتا کوئی پروا میری دشمنوں پر میں گراں ہوں دوستوں پر بار ہوں کچھ نہیں حال کلیسا و صنم جینا انہ کا علم نشتہ جام سئے وحدت میں میں سرشار ہوں اس کی ڈوری کو بھی پاتا ہوں قلم قرب میں خواب میں جیسے کوئی سمجھے کہ میں بیدار ہوں کیا کروں جاکر حرم میں مجھ کو ہے تیری تلاش دار کا طالب نہیں ہوں طالب دیدار ہوں مبر و تسکیں تو الگ دل تک نہیں باقی رہا راہ اُلفت میں لٹا ایسا کہ اب نادار ہوں اب تو جو کچھ تھا حوالے کر چکا دلدار کے وہ گئے دن جبکہ کہتا تھا کہ میں ڈال اور ہوں اخبار بد ر جلد ۷ - ۹ جولائی شاه