کلام محمود — Page 16
میں ہے کہ گمراہ تم ہو گئے ہو نہ پہلا سا علم اور نہ وہ اگتا ہے اگر رہنما اب بھی کوئی نہ آئے تو سمجھو کہ وقت آخری آگیا ہے ہیں ہے اسی وقت ہادی کی حاجت میں وقت اک رہنا چاہتا ہے یہ ہے دوسری بات مانو نہ مانو مگر حق تو یہ ہے کہ وہ آگیا ہے اُٹھو اس کی امداد کے واسطے تم حمیت کا یارو یہی مقصنا ہے اُٹھو دیکھو اسلام کے دن پھرے ہیں کہ نائب محمد کا پیدا ہوا ہے محنت سے کہتا ہے وہ تم کو ہردم اُٹھو سونے والو کہ وقت آگیا ہے دم و غم اگر ہو کسی کو تو آئے وہ میدان میں ہر اک کولکاتا ہے ہراک دشمن دیں کو ہے وہ بلاتا کہ آؤ اگر تم میں کچھ بھی جیسا ہے متقابل میں اس کے اگر کوئی آئے نہ آگے بچے گا نہ اب تک بچا ہے مسیحا د مهدی دوران آخر وہ جس کے تھے تم منتظر آگیا ہے قدم اس کے ہیں شرک کے سر کے اوپر علم ہر نہ اس کا بھرا رہا ہے خُدا ایک ہے اُس کا ثانی نہیں ہے کوئی اس کا ہمسر بنانا خطا ہے نہ باقی رہے شرک کا نام تک بھی خُدا سے یہ محمود میری دُعا ہے