کلام محمود — Page 15
جدھر دیکھو ابر گنہ چھا رہا ہے گناہوں میں چھوٹا بڑا مبتلا ہے میرے دوستو شیرک کو چھوڑ دو تم کہ یہ سب بلاؤں سے بڑھ کر بلا ہے یہ دم ہے غنیمت کوئی کام کر لو کہ اس زندگی کا بھروسہ ہی کیا ہے محمد پہ ہو جان مشرباں ہماری کہ وہ کوئے دلدار کا رہنما ہے غضب ہے کہ یوں شہرک دنیا میں پھیلے مرا سینہ جلتا ہے دل پھینک رہا ہے خُدا کے لیے مرد میداں بنو تم کہ اسلام چاروں طرف سے گھیرا ہے تم اب بھی نہ آگے بڑھو تو غصب ہے کہ دشمن ہے بے کس ، تمھارا خُدا ہے بجا لاؤ احکامِ احمد خدا را ذرا سی بھی گرتم میں بوئے وفا ہے صداقت کو اب بھی نہ جانا تو پھر کب کہ موجود اک ہم میں مرد خدا ہے تیری عقل کو قوم کیا ہو گیا ہے اسی کی ہے بدخواہ جو رہنا ہے ده اسلام دنیا کا تھا ہو محافظ وہ خود آج محتاج اعداد کا ہے بپا کیوں ہوا ہے یہ طوفاں یکایک باؤ تو اس بات کی وجہ کیا ہے اخبار بدر جلد ۵-۱۴ راکتوبر شانه۔