کلام محمود — Page 272
۲۲ 196 اس کی چشم نیم و اسکے میں بھی سرشاری پایان درمیاں میں ہوں نہ سوتوں میں دریاوں میں گرد اس کے گھومتا ہوں روز و شب دیوان دار لوگ گر سمجھیں تو بس اک میں ہی شیاروں میں بنوں ہم سفر سنبھلے ہوئے آنا کہ رستہ ہے خراب پر قدم ڈھیلا نہ ہوئیں تیز رفتاروں میں ہوں خود چلائی ہے مجھے اُس نے مئے عرفان خاص معترض ! نازاں ہوں میں اس پر کہ میخواروں میں پائی جاتی ہے وفا ہو اُس میں مجھ میں وہ کہاں میں کیوں کس منہ سے اسکو میں وفاداروں میں کی * 19A یا فاتح رُوح ناز ہو جا یا تو ہمہ تن نیاز ہو جا خدمت میں ہی عشق کا مزا ہے محمود نہ بن ایاز ہو جا کر خانہ منکر کو مقفل ہاتھوں میں کسی کے ساز ہو جا ہے جسنبر صراط پر اترا پاؤں وا دین و گوش باز ہو جا کوتاہ نگاہیاں یہ کب تک گیسو کی طرح دراز ہو جا جا دھونی گرما دے اُس کے در پر انجام سے بے نیاز ہو جا پیارے تجھے غیر سے ہے کیا کام آآ میرے دل کا راز ہو جا * اخبار الفضل جلد ۱۳ - ۲۲ نومبر ۱۹۲۳ اخبار الفضل جلد ۲۰ - ۳ / جنوری ۱۹۳۳ء