کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 302

کلام محمود — Page 271

194 حضور کی یہ نظم ہیں حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ من ظلما العالی نے عطا فرمائی ہے۔روتے روتے ہی کٹ گئیں راہیں ذکر میں ہی بسر ہوئیں رائیں جن میں ہوتا ہے وصل یار نصیب ایسی بھی ہوتی ہیں کہیں راہیں ایسی راتوں کو یاد کرتا ہوں دل مکاں ہے تو میں مکیں راتیں جن کو ہوتا ہے یار کا دیدار میں انہیں کے لیے بنی راتیں لاکھ دن ان کے نام پہ قرباں لگتیں رائیں عنبریں راتیں عاشقوں کے لیے ہیں اک رحمت ناز بردار نازنیں راتیں دن کی تاریکیاں ہیں کہتی دُور مہ نما ہیں یہ مہ جبیں رائیں جن میں موقع ہے تب کا ہوتی ہیں بس وہ بہتریں راہیں شمع پروانوں کو نصیب ہو جب دن کہو ان کو وہ نہیں راتیں سوتے سوتے میں جو گذر جائیں وہی راتیں ہیں بدتریں راتیں