کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 302

کلام محمود — Page 259

۲۵۹ JAA ہوئی لے آدم و حوا کی منزل انس و قرب سے مگر ابلیس اندھا تھا کہ مہاتی کی لعنت سے خُدا کا قرب پائیگا نہ راحت سے نہ غفلت سے یہ درجہ گر ملے گا تو فقط ایثار و محنت سے الہی تو بچانے سب مسلمانوں کو ذلت سے کہ جو کچھ کر رہے ہیں کر رہے ہیں و جہالت سے عزیزو ! دل رہیں آباد ہیں اس کی محبت سے بنو زاہد، کر و الفت نہ ہرگز مال و دولت سے خُدا سے پیار کر دل سے اگر رہنا ہو عزت سے کہ ابراہیم کی عزت تھی سب مولیٰ کی قلت سے اگر رہنا ہو ا جس سے تو رہ کامل قناعت سے کبھی بھی تر نہ ہو تیری زباں حرف شکایت سے تعلق کوئی بھی رکھا نہ تم بغض و عداوت سے کہ مومن کو ترقی ملتی ہے مہر و محبت سے تری یہ عاجزی بالا ہے سب دنیا کی عزت سے تجھے کیا کام ہے دنیا کی رفعت اور شوکت سے ترا دشمن بڑائی چاہتا ہے گر شرارت سے تو اس کا توڑے منہ تو محبت سے مروت سے بلا ہے علم سے محمد کو نہ کچھ اپنی لیاقت سے ملا ہے مجھ کو جو کچھ بھی سو مولیٰ کی عنایت سے بسر کر عمر تو اپنی نہ سو سو کر نہ غفلت سے کہ ملتی ہے مراک عزت اطلاع سے عبادت سے گئی ابلیس کی تقریر ضائع سب بہ فضل اللہ کی ہے آدم و حوا کو جنت حق کی رحمت سے کلیم اللہ کے پیرو بنے ہیں پیر و شیطان دکھا یا سامری نے کیا تماشہ اپنی ثبت سے جنہوں نے پانی ہے اللہ کی کوئی شریعیت بھی انھیں تو ٹھیک کر سکتا نہیں ، پر حق و حکمت سے اخبار الفضل جلد ۱۲ - ۲۱/ دسمبر شانه - ربوه - پاکستان