کلام محمود — Page 241
۲۴۱ غلامی روس کی ہو یا غلامی مغربیت کی کوئی بھی نام رکھ لے تو وہ ہے زنجیر لعنت کی تو آزادی کا ٹھپتہ کیوں غلامی پر لگاتا ہے خلاف کو منویت لے کے قرآن پر چڑھاتا ہے یہ کھیل امداد کی عرصہ تیرے گھرمیں جاری ہے کبھی ہے مارکس کا چرچا کبھی درس بخاری ہے مسلمانی ہے پر اسلام سے نا آشنائی ہے نہیں ایمان کسی باپ دادوں کی کمائی ہے کبھی نعروں پر تو قرباں کبھی گفتار پر قرباں مرے ہوئے میٹم میں اس تھے گزار پر قرباں