کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 302

کلام محمود — Page 240

۲۴۰ 160 ارے مسلم طبیعت تیری کیسی لا ابالی ہے ترے اعمال دنیا سے جُدا فطرت نرالی ہے خدا کو دیکھ کر بھی تو کبھی خاموش رہتا ہے کبھی اس زرتشت رو کو دیکہ کرائے اہ کہتا ہے۔بھی اس چشمہ صافی کے ہمسائے میں بستا ہے کبھی اک قطرہ آپ منظر کو ترستا ہے بھی فردار نفتے کے اٹھا کر پھینک دیتا ہے بھی چیونٹی کے ہاتھوں کبھی نہ چھین لیتا ہے کبھی آفاتِ ارضی و سماوی سے ہے ٹکراتا کبھی ٹو بھی جو لگ جائے تو تیرا منہ ہے مُرجھاتا بھی کہتا ہے تو اللہ کو کس نے بنایا ہے ؟ کبھی کہتا ہے راز خلق دنیا کس نے پایا ہے ؟ کبھی اللہ کی قدرت کا بھی انکار ہے تجھ کو کبھی انسان کی رفعت پہ بھی اصرار ہے تجھ کو کمال ذات انسانی پر تشوشتو ناز کرتا ہے کبھی شان خداوندی پر شو شو حرف دھتا ہے جو راحت ہو تو منہ راحت کہاں سے موڑ لیتا ہے مصیبت ہو تو اس کے در پہ ستر تک پھوڑ لیتا ہے جہان فلسفہ کی علتوں کا چارہ گر ہے تو گر جو آنکھ کے آگے ہے اس سے بے خبر ہے تو تو مشرق کی بھی کہتا ہے تو مغرب کی بھی کہتا ہے گر راز درون خانہ پوشیدہ ہی رہتا ہے سرود و ساز و رقص و جام انگوری و کے خواری پھر اسکے ساتھ تکبیریں بھی ہیں کیسی ہے خود واری اگر چاہے تو بندے کو خدا سے بھی بڑھا دے تو اگر چاہے تو کتر وبی کو دوزخ میں گرا دے تو اخبار المصلح جلد ۶ - ۲۵ ستمبر ۱۱۵ - کراچی پاکستان