کلام محمود — Page 239
ألفت الفت کہتے ہیں پر دل اُلفت سے خالی ہے ہے دل میں کچھ اور منہ پر کچھ دُنیا کی ریت نرالی ہے کہتے ہیں آؤنیا کو دیکھ ہیں اس میں کیسے نظارے ئیں کہتا ہوں بس چپ بھی رہو یہ میری دیکھی بھالی ہے یاں عالم انکو کہتے ہیں جو دیں سے کورے ہوتے ہیں جب دیکھو بھیڑیا نکلے گا جو بھیڑوں کا رکھوالی ہے تقویٰ کا جھنڈا جھکتا ہے پر کفر کی گڈی چڑھتی ہے اس دنیا میں اب نیکوں کا کوئی تو اللہ والی ہے اندھیاری راتوں میں سجدے کرنا تو پہلی باتیں تھیں آب دن ایک مجلس میش کی ہے اور رات جو ہے دیوالی ہے اب صوفے کو چلیں گرجا میں اک شان سے رکھے رہتے ہیں مسجد میں بٹھائی ہوتی تھی سو ظالم نے سرکالی ہے - کافر کے ہاتھ میں بندوقیں مومن کے ہاتھ سلاسل میں کافر کا ہاتھ خزانوں پر مومن کی پیالی خالی ہے اخبار الفضل جلد ۷ - ۳/ جنوری تشنه - لاہور - پاکستان۔=