کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 302

کلام محمود — Page 207

۱۴۳ آ آ کہ تری راہ میں ہم آنکھیں بچھائیں آآ کہ تجھے سینہ سے ہم اپنے لگائیں تو آئے تو ہم تجھ کو سر آنکھوں پہ بٹھائیں جاں نذریں دیں تجھ کو تجھے دل میں بسائیں آپ آکے محمد کی عمارت کو بنائیں ہم گھر کے آشار کو دنیا سے مٹائیں ہیں مغرب و مشرق کے تو معشوق ہزاروں بھاتی ہیں مگر آپ کی ہی مجھ کو ادائیں رحمت کی طرف اپنی نگر کیجئے آت جانے بھی دیں کیا چیز ہیں یہ میری خطائیں ئیں جانتا ہوں آپ کے انداز تلطف مانوں گا نہ جب تک کہ میری مان نہ جائیں ہے چیز تو چھوٹی سی مگر کام کی ہے چیز دل کو بھی مرے اپنی اداؤں سے بھا ئیں دے ہم کو یہ توفیق کہ ہم جان لڑا کر اسلام کے سر پر سے کریں دُور بلائیں ربوہ کو ترا مرکز توحید بناکر اک نعرہ تجیر فلک بوس لگائیں پھر ناف میں دُنیا کی ترا گاڑ دیں نیزہ پھر پرچم اسلام کو عالم میں اُڑائیں جس شان سے آپ آئے تھے مکہ میں کی جاں اک بار اسی شان سے ربوہ میں بھی آئیں رکوہ رہے کتبہ کی بڑائی کا دھاگو کید کی پہنچتی رہیں ربوہ کو دعائیں اخبار الفضل جلد ۴ - لاہور پاکستان - ۱۹ار جنوری سنشله