کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 302

کلام محمود — Page 159

109 ۹۹ تها بزادی امتہ القیوم کی تقریب رخصتانہ کے موقعہ پر کل دو پسر کو ہم جب تم سے ہوئے تھے رخصت ظاہر میں چپ تھے لیکن دل خون ہو رہا تھا افسردہ ہو رہا تھا محزون ہو رہا اے میری پیاری بیٹی میرے جگر کا ٹکڑا میری کمر کی پیٹی تم یاد رہی ہو دل کو ستا رہی ہو ئیں کیا کروں کہ ہر دم تم دُور جا رہی ہو ٹوٹی ہوئی کا اللہ ہی سہارا اللہ ہی ہے ہمارا اللہ ہی ہو تمھارا اللہ کی تم رحمت اللہ کی تم برکت اللہ کی مہربانی اللہ کی ہو عنایت ده تمھارا آنکھوں کا میری تارا الله کا ہو پیارا اخبار الفضل جلد ۲۷ - ۲۸ / دسمبرشت