کلام محمود — Page 158
10% 2^ ذرا دل تھام لو اپنا کہ اک دیوانہ آتا ہے شرار جن کا جلتا ہوا پروانہ آتا ہے سکمال جرات انسانیت عاشق دکھاتا ہے کہ میدان بلا میں بس وہی مردانہ آتا ہے نگاہ لطف میری جستجو میں بڑھتی آتی ہے ہوں وہ میخوار جس کے پاس خود میخانہ آتا ہے مجھے کیا اس سے گر دنیا مجھے فرزانہ کہتی ہے تمنا ہے کہ تم کہہ دو میرا دیوانہ آتا ہے بھڑک اٹھتی ہے پھر شمع جہاں کی روشنی یکدم قدم سے سوئے بہتی جب کوئی پرانا تا ہے مری تو زندگی گشتی ہے تیری یاد میں پیارے بھی تیری زباں پر بھی مرا افسانہ آتا ہے ہزاروں حسرتیں مل کر فنا ہونے کی رکھتا ہے ہٹا بھی دیں ذرا فانوس اک پڑا نہ آتا ہے اخبار الفضل جلد ۲۶ - ۳۱ دسمبر له