کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 302

کلام محمود — Page 3

میاں ہن کی شادی ہوئی ہے آج اسے لوگو ہر اک منہ سے میں آواز آتی ہے مبارک ہو دُعا کرتا ہوں میں بھی ہاتھ اٹھا کر حق تعالی سے کہ اپنی خاص رحمت سے وہ اس شادی میں برکت ہے خدا یا اس بنی پر اور بہنے پر فضل کر اپنا اور انکے دل میں پیدا کرنے جوش میں کی خدمت کا کلام پاک کی الفت کا انکے دل میں گھر کرے نبئی سے ہو محبت اور تعشق ان کو ہو تجھ سے ہر اک تمن کے شرسے بچانا اسے خدا ان کو ہمیشہ کے لیے رحمت کا تیری ان پر سایہ ہو ہمیشہ کیلئے ان پر ہوں یارب برکتیں تیری دعا کرتا ہوں یہ مجھ سے ندا یان دو میری انہیں صبح دوستان دیں اور دنیا میں ترقی دے نہ اکو کوئی چھوٹا سا بھی آزار اور دکھ پہنچنے عطا کر انکو اپنے فضل سے محبت بھی ائے لی ہمیشہ ان پہ برسا ابر اپنے فضل و رحمت کا میں اگلے شعر پر کرتا ہوں ختم اس نظم کو یارو اب اسکے واسطے تم بھی خدا سے کچھ دعامانگو بہت بھایا ہے اسے تمحمودیہ مصرعہ سے دل کو مبارک ہو یہ شادی خانہ آبادی مبارک ہو اخبار بدر جلد ۵ - ۱۰ / فروری شاه : به نظم حضرت میر محمد اعلی بن حضرت میر ناصر نواب منی امت نہ کی تقریب شادی کے موقع پر کسی گئی۔