کلام محمود — Page 119
114 سیدہ مریم صدیقہ کی آمین مریم نے کیا ہے ختم قرآں اللہ کا ہے یہ اس پر احسان الفاظ تو پڑھ لیے ہیں سارے اب باقی ہے مطلب اوعرفاں اللہ سے یہ ہری دُعا ہے ان کو بھی کرے وہ اس پر آساں۔آمین توفیق لے اُسے عمل کی کامل ہو ہر اک جہ سے ایماں - آمین ہراک جیسے مولیٰ کی عنایت و کرم کا سایہ ہے اس کے سر پہ ہر اک - آمین سلقہ میں ملائکہ کے کھیلے ہر دم ہے دُور اس سے شیطاں - آمین۔ہو فضلِ خُدا کی اس پہ بارش پھیلا ہ سے خوب اس کا داماں۔آمین ہو مریم رغم دل شکستہ ہو عادت مهر و لطف احساں - آمین سر وقت خیال یار ازلی دل نور وفا سے مہرتا ہاں۔آمین ہو عرصہ منکر رشک گلشن میدان خیال صد گلستان - آمین آنکھوں میں حیا پیک رہی ہو منہ حکمت علم سے دُرافشاں۔آمین نکروں سے خُدا اسے بچائے پیدا کرے نرمی کے ساماں۔آمین ہو دونوں جہان میں معزز ہوں چھوٹے بڑے سبھی شنا خواں - آمین مرضی ہو خُدا کی اس کی مرمضی مولیٰ کی رضا کی ہو یہ جو یاں۔آمین سب عمر بسر ہو اتتا میں ہر لحظہ رہے یہ زیر فرماں۔آمین آمین۔کہیں میری دعا پر بیٹھے ہیں تمام لوگ جو یاں۔آمین مولیٰ سے دُعا سے پیاری بہنو ! تمکو بھی دکھائے وہ یہ خوشیاں آمین اخبار الفضل جلد ۱۲ - ۱۴ ر مئی ۱۹۲۵ ه